Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسافر کو بار بار شہر بدلنا پڑے تو نماز میں قصر کا حکم

Answer (beginning)

شرعی مسافر کے کسی قابل اقامت جگہ پر مقیم ہونے کے لیے شرعی اعتبار سے پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کا ارادہ ضروری ہوتا ہے، یعنی ایسی یکی نیست و حتمی قصد ضروری ہے جس میں تردد و شک نہ ہو، بلکہ بالیقین وہاں ٹھہر نے اور پندرہ متصل راتیں گزارنے کی نیت ہو۔ اگر ایسی صورت نہ ہو، تو مسافر مقیم شمار نہیں ہوتا اور وہ بدستور مسافر ہی رہتا ہے، اگر چہ اسی حالت میں پوری دنیا کا سفر ہی کیوں نہ کر اس مختصر تفصیل سے صورت مسئولہ کا حکم بھی واضح ہو گیا، چونکہ آپ کا کسی معین جگہ پر کم از کم پندرہ دن ٹھہر نے کا پختہ ارادہ نہیں، بلکہ تردد اور غیر یقینی کیفیت پائی جارہی ہے، یعنی نگر ان کے حکم 1 کے مطابق کسی بھی وقت…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.