Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مضاربت میں نقصان کی شرط نہ ہونے پر عقد کا شرعی حکم

Answer (beginning)

قوانین شریعت کے مطابق عقد مضاربت کرتے وقت نقصان سے متعلق وضاحت نہ کرنے کی وجہ سے عقدِ مضاربت پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ شرعی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ مضاربت میں اگر مضارب کی تعدی و کوتاہی کے بغیر نقصان ہو تو وہ تمام نقصان رب المال (Investor) ہی برداشت کرے گا بلکہ کتب فقہ میں یہاں تک بیان ہوا کہ اگر مضارب پر نقصان کی شرط لگادی جائے تب بھی عقدِ مضاربت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یہ شرط ہی باطل ٹھہرے گی اور نقصان کے جو مسائل ہیں، ان کی تفصیل کی روشنی میں رب المال کو ہی نقصان برداشت کرنا پڑے گا البتہ اس میں کافی تفصیل ہے ، سب ۔ پہلے نفع سے نقصان پورا کیا جاتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.