Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چار سنتِ مؤکدہ میں تین پر سلام پھیر دیا تو نماز کا حکم
Answer (beginning)
بیان کردہ صورت میں اس شخص کی نماز بلا کراہت درست ہو جائے گی، اس لئے کہ یہاں رکن کی مقدار خاموش رہنے کی وجہ سے نہ کوئی فرض یا واجب ترک ہوا اور نہ ہی ان کی ادائیگی میں کوئی تاخیر واقع ہوئی ہے ، زیادہ سے زیادہ رکوع کی تسبیحات جو سنت ہیں ان کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی اور سنن میں تاخیر تو کجا ان کے ترک سے بھی نماز نہ مکروہ تحریمی ہوتی ہے اور نہ ہی سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ تفصیل: سجدہ سہو ، بھول کر کسی واجب کو ترک کرنے ، واجب یا فرض کو مؤخر کرنے یا کسی اجنبی 1 فاصلے کے سبب لازم ہوتا ہے، سنت کو ترک کرنے یا اسے مؤخر کرنے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.