Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نایاب کرنٹ اکاؤنٹ اور سودی سہولت کا حکم

Answer (beginning)

مذکورہ کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانا بہت ساری خرابیاں پائی جانے کی وجہ سے ناجائز و گناہ اور سودی معاملہ ہے۔ کیونکہ بینک کی طرف سے مذکورہ کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈر کو یہ سہولت دینا کہ اگر ماہانہ اتنی اوسط رقم اکاؤنٹ میں رہے گی تو چیک بک اور بینکر ز چیک کی فیس نہیں لی جائے گی بلکہ مفت دیئے جائیں گے ، اسی طرح ڈیبٹ کارڈ کے سالانہ چار جز بھی معاف ہو جائیں گے یا کم چارج ہوں گے تو یہ ساری سہولت ناجائز وسود ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.