Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کاغذات کے بغیر بائیک خریدنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
گاڑی اگر چوری وغیرہ کی نہیں ہے بلکہ یہ اطمینان ہے کہ گاڑی کا اصل مالک ہی بائیک بیچ رہا ہے تو کاغذات کے بغیر بائیک بیچنا اور خرید ناشرعاً جائز ہے۔ کاغذات وغیرہ گاڑی کے توابع وملحقات میں ہوتے ہیں۔ کاغذات نہ ہونے سے اگر چہ گاڑی کی مارکیٹ ویلیو کم ہو جاتی ہے لیکن کاغذات کے بغیر بھی اسے استعمال کرنا اور نفع اٹھانا ممکن ہے یعنی کاغذات کے بغیر بھی بائیک مالِ متقوم ہے۔ لہذا اس کی خرید و فروخت شرعا جائز ہے۔ نیز اصل مالک سے کاغذات کے بغیر گاڑی کی خریداری کرنا کوئی قانونی جرم بھی نہیں ہے ، لہذا اس اعتبار سے بھی عقد شرعی کرنے میں کوئی حرج نہیں پایا جاتا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.