Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دعا میں ہاتھ اٹھانے کی شرعی حیثیت اور دعا کی اقسام
Answer (beginning)
يعني ليس فيه رفع لأن في الرفع إعلانا یعنی شرح منیہ میں فرمایا: دعائے خفیہ میں ہاتھ نہیں اٹھائے جائیں گے، کیونکہ ہاتھ اٹھانے میں اعلان کرنا پایا جاتا ہے۔ (ردالمحتار علی الدر المختار، جلد 2، صفحه 265، مطبوعہ کوئٹہ) حلیۃ الناجی میں ہے: ”وفی دعاء الخفية ما يفعله المرء في نفسه ويدعوه بلا رفع اليد لان في الرفع اظهار حاله والممدوح اخفاء حاله بقدر وسعه لقوله تعالى : ( أدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً یعنی دعائے خفیہ وہ ہے جو آدمی اپنے دل میں کرتا ہے اور ہاتھ اٹھائے بغیر دعا کرتا ہے کیونکہ ہاتھ اٹھانے میں اپنی حالت کو ظاہر کرنا ہے جبکہ تعریف بقدر طاقت اپنے حال کو پوشیدہ رکھنے کی کی گئی ہے،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.