Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کی طرف سے روزہ رکھنا یا فدیہ دینے کا حکم؟
Answer (beginning)
جس شخص کے ذمے روزوں کی قضا باقی ہو اور انہیں ادا کرنے سے پہلے وہ مر جائے، تو اس کی طرف سے کوئی اور روزہ ادا نہیں کر سکتا، کیونکہ روزہ بدنی عبادت ہے ، اس میں نیابت نہیں ہو سکتی، جبکہ بخاری شریف کی جس حدیث میں میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا ذکر ہے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے شارحین حدیث نے وضاحت فرمائی ہے کہ اس حدیث میں روزہ رکھنے سے مراد فدیہ دینا ہے۔ بخاری شریف کی روایت ہے : ” عن عائشة رضى الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من مات و عليه صوم صام عنه ولیه یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مر گیا اور اس پر روزے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.