Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پانچ سال کا کرایہ ایک ساتھ دیکر کرایہ کم کروانا جائز ہے؟

Answer (beginning)

مذکورہ صورت میں بطور سکیورٹی کچھ ایڈوانس دیے بغیر، پانچ سال کا معاہدہ کر کے پانچ سال کا پیشگی کرایہ دینا اور مکان مارکیٹ ویلیو سے کم کرایہ پر لینا جائز ہے۔ یہ سود کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ شرعی طور پر عقد قرض میں طے شدہ نفع لینے کو سود کہتے ہیں جبکہ مذکورہ صورت میں کسی قسم کے قرض کا لین دین نہیں پایا جارہا، بلکہ کرائے داری کا معاہدہ ہے ، جس میں کرایہ مارکیٹ ویلیو سے کم مقرر کیا گیا ہے اور عقد اجارہ میں اجرت عاقدین کی باہمی رضامندی سے کم اور زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ اجارہ میں اجرت کو بیچ پر قیاس کرتے ہیں کہ ان دونوں میں مال کا مال کے ساتھ تبادلہ ہے اور بیچ 1 میں باہمی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.