Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جمع کی ہوئی حج کی رقم پر زکوٰۃ کا حکم
Answer (beginning)
اگر قرض اور حاجت اصلیہ سے فارغ ہو کر رقم نصاب کے برابر پہنچے، تو پوچھی گئی صورت میں اس پر زکوۃ نکالنا فرض ہو گا۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے: ”تجب الزكاة عند تمام الحول الاول كذا في فتح القدير وهكذا في الكافي وكل دين لا مطالب له من جهة العباد كديون الله تعالى من النذور والكفارات وصدقة الفطر ووجوب الحج لا يمنع “ يعنی زکوۃ سال پورا گزرنے پر واجب ہو جاتی ہے، فتح القدیر اور کافی میں یو نہی لکھا ہے اور ہر وہ دین جس کا مطالبہ لوگوں کی طرف سے نہ ہو ، جیسے اللہ عزوجل کے دین مثلاً نذور، کفارے، صدقہ فطر، حج کا لازم ہونا یہ تمام چیزیں زکوۃ کے لیے مانع نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.