Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ادھار خرید و فروخت میں ایک شرعی خرابی اور بیع فاسد کی آمدنی کا حکم
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں مذکورہ طریقے سے خرید و فروخت درست نہیں، بلکہ فاسد وناجائز ہے، کہ ادھار خرید و فروخت کی صورت میں رقم کی ادائیگی کے لیے متعین مدت کا ذکر ضروری تھا، جبکہ یہاں ایسا نہیں ہوا ، جس وجہ سے عقد فاسد اور زید (خریدار) و عمرو ( بیچنے والا) دونوں گنہگار بھی ہوئے ۔ اس عقد کا اصل حکم یہ تھا کہ زید سامان اور عمر و اس کے بدلے پیسے نہ لیتا۔ جب عمرو نے سامان دے دیا اور رقم لے لی تو زید سامان کا اور عمرور قم کا ملک خبیث کے ساتھ مالک ہو گیا اور اب بھی ان پر واجب تھا کہ بیع کو فسخ کر کے سامان اور پیسے ایک دوسرے کو واپس کر دیں، ایسی صورت میں فسخ نہ کرنا اور مالکانہ تصرف کرنا گناہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.