Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا کرائے کے ساتھ اضافی چیز لینا درست ہے؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! پوچھے گئے طریقہ کار کے مطابق اجرت مقرر کرنا درست ہے کیونکہ اجرت کا معلوم اور متعین ہو نا ضروری ہے اور چونکہ فریقین نے باہمی رضامندی سے اس دکان کی اجرت کو دو حصوں میں مقرر کیا ہے، ایک حصہ ماہانہ ہیں ہزار روپے نقد اور دوسرا روزانہ متعین قسم کی چھ روٹیاں ، اور اس طرح اجرت مقرر کرنا بھی اجرت کے معلوم اور متعین ہونے کی ہی ایک صورت ہے لہذا یہ طریقہ درست ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.