Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شوال کے چھ روزے رکھنے کا شرعی حکم
Answer (beginning)
عید الفطر کے دن کے بعد سے شوال کے چھ روزے متصلاً یا متفر قار کھنے میں شرعا حرج نہیں بلکہ مستحب اور باعث ثواب ہے ، البتہ یہ روزے اس طرح رکھنا کہ رمضان کے روزوں سے متصل ہوں یعنی عید الفطر والے دن بھی روزہ رکھے اور اس کے بعد پانچ روزے رکھے ، تو مکروہ ہے۔ مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و طبرانی ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ( واللفظ للمسلم " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال، كان کصیام الدهر“ ترجمہ: بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر ان کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو ایسا ہے جیسے دہر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.