Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کسی کی طرف سے سلام پہنچانے کا حکم
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں بکر پر واجب ہے کہ وہ خالد کو زید کا سلام پہنچائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بکر نے سلام پہنچانے کی ہامی بھر لی، تو اب اس کے لیے سلام پہنچانا واجب ہو گیا۔ ہاں اگر وہ ہامی نہ بھر تا تو سلام پہنچانا واجب نہیں تھا۔ در مختار مع رد المحتار میں ہے : ” ( ولو قال لآخر اقرا فلانا السلام يجب عليه ذلک) والظاهر ان هذا اذا رضى بتحملها تامل ثم رأيت في شرح المناوى عن ابن حجر: التحقيق ان الرسول ان التزمه اشبه الامانة والا فوديعة اى فلا يجب عليه الذهاب لتبليغه كما في الوديعة “ یعنی ایک شخص نے دوسرے کو کہا: فلاں کو میر اسلام کہنا، تو اس پر سلام پہنچانا واجب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.