Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اسکول وین مالکان کا گرمیوں کی چھٹیوں میں فیس لینا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
(۱) اس سوال کا جواب جاننے سے پہلے حکم شرع ذہن نشین رہے کہ دیگر معاملات کی طرح عقد اجارہ میں بھی عرف پر دار و مدار ہوتا ہے ، لہذا فریقین جو چیزیں صراحتاً جارے میں طے نہ کریں تو وہاں کے عرف کا اعتبار کرتے ہوئے وہ چیزیں بھی اجارے میں داخل ہوں گی کہ مشہور فقہی قاعدہ ہے "المعروف کالمشروط " یعنی معروف مشروط کی طرح ہوتا ہے۔ جیسا کہ اجارے کے باب میں فقہائے کرام کی تصریحات موجود ہیں کہ اجیر کا ایام معہودہ کا اجارہ لینا شرعاً جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.