Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض کے بدلے کرائے کے مکان میں رہائش دینا سود ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں زید کا بکر سے قرض لینے کے عوض اسے کرائے کے گھر میں رہائش دینا اور اس گھر کا کرایہ اپنی ذاتی رقم سے ادا کر نا خالصہ سودی معاہدہ ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ قرض لے کر فقط اضافی رقم دینا یا اپنی ملکیت میں موجود کوئی چیز دینا ہی سود شمار نہیں ہوتا بلکہ قرض کے عوض کسی بھی قسم کی مشروط منفعت حاصل کرنا بھی سود ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت کا حکم یہی ہے کہ زید اور بکر مذکورہ سودی معاہدہ نہ کریں۔ 1 سود کی حرمت کے بارے میں اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے : وَاَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرَّبُوا“ ترجمہ کنز الایمان : اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.