Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کرایہ کی شیروانی کی جیب سے پیسوں کا لفافہ مل جائے تو کیا کریں
Answer (beginning)
کرایہ دار کے پاس کرایہ کی چیز امانت ہوتی ہے اور امانت کا حکم یہی ہوتا ہے کہ اُس کے مالک کو وہ چیز لوٹائی جائے، لہذا پوچھی گئی صورت میں وہ لفافہ دکاندار کی امانت ہے، شیر وانی والے کو وہ لفافہ واپس کر دیا جائے۔ البتہ اگر دکاندار یہ کہے کہ میرا لفافہ نہیں ہے تو اس صورت میں یہ رقم لقطہ ہوگی۔ اس کی نظیر فقہائے کرام کا بیان کردہ وہ مسئلہ ہے کہ کسی نے مکان خریدا اس کی دیوار وغیرہ Islamic Economics Centr میں روپے ملے اگر بائع کہتا ہے کہ یہ روپے میرے ہیں تو اسے دے دے ورنہ وہ لقطہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.