Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کرایہ پر سولر پلیٹ دینے کا مسئلہ اور حکم
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ کا اپنی سولر پلیٹوں کو فروخت کرنا یا انہیں کرایہ پر دینا، شرعاً جائز ہے، یونہی کرایہ میں رقم طے کرنے کے بجائے 10 من گندم اور 10 من کپاس طے کرنا بھی جائز ہے، جبکہ گندم اور کپاس میں کسی قسم کی جہالت نہ پائی جائے یعنی گندم اور کپاس کے بارے میں ضروری اوصاف بیان کر دیئے جائیں۔ رہی بات آپ کی کرائے دار کو آخر میں بیچنے کی آفر دینے کی تو یہ اگر آفر ہی کی حد تک ہو اور عقد اجارہ میں مشروط نہ ہو تو اس میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں، پھر بعد میں آپ کا باہمی رضامندی سے مارکیٹ ویلیو پر وہ پلیٹیں فروخت کرنا شرعاً جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.