Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وکیل کا بغیر اجازت چیز ادھار بیچنا
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ کو اپنے والد صاحب کی گاڑی ادھار بیچنے کا اختیار نہیں تھا، جب آپ نے ان کی گاڑی ادھار پیج دی تو اب یہ ان کی اجازت پر موقوف تھا کہ وہ اس بیع کو قبول کر لیں یا منع کر دیں، جب انہوں نے اس بیچ کو قبول نہیں کیا تو یہ بیع ختم ہو گئی، اب ان سے گاڑی کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔ مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ بیع کے وکیل کو ادھار بیچنے کی فقط اس وقت اجازت ہوتی ہے کہ جب موکل نے صراحۃ اس کی اجازت دی ہو یا وہ تجارت کے لیے سامان بیچ رہا ہو، پوچھی گئی صورت میں آپ کے والد نے نہ صراحتا ادھار بیچنے کی اجازت دی اور نہ ہی وہ تجارت کے لیے گاڑی بیچ رہے تھے لہذا آپ کو ان کی گاڑی ادھار بیچنے کا اختیار…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.