Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رمضان سستا بازار میں چیزیں مہنگی بیچنے کا شرعی حکم

Answer (beginning)

اسلام نے تجارت میں نفع کی کوئی خاص مقدار لازم نہیں کی کہ اتنا جائز ہے اور اس سے زائد ناجائز ، بلکہ اسے بائع و مشتری (یعنی فروخت کرنے والے اور خریدار) کی باہمی رضامندی پر چھوڑا ہے کہ مالک اپنی چیز جھوٹ اور دھوکا دیئے بغیر جتنے کی چاہے فروخت کر سکتا ہے اور خریدار پر کوئی جبر نہیں ، بلکہ اختیار ہے کہ اگر خریدنا چاہے خرید لے ، ورنہ چھوڑ دے اور رہا مسئلہ حکومت کا قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے دُکانداروں کو متعین قیمت پر بیچنے پر مجبور کرنے کا، تو اس کی دوصور تیں ہیں: (1) بعض اوقات قیمتوں کا بڑھ جانا دُکاندار کی بدنیتی یا ذخیرہ اندوزی کی بنا پر نہیں ہوتا، دُکاندار تو بے قصور و مجبور ہوتا ہے، لیکن…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.