Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اکاؤنٹ میں آنے والی رقم کا کیا کریں؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ پیسوں پر لقطہ کا حکم لگے گا کیونکہ لفظہ اس مال کو کہتے ہیں جو پڑا ہوا ملے اور اس کے مالک کا علم نہ ہو ۔ لہذا ان پیسوں کو ہر گز خود استعمال نہ کریں بلکہ اولا ایجنٹ کے پاس جاکر اس سے معلومات لیں اور کسی طرح اصل مالک تک یہ رقم پہنچانے کی کوشش کریں۔ ایجنٹ کو بھی مطلع کر دیں کہ مالک آئے تو آپ کو خبر کرے۔ اگر ہر طرح کی کوشش کرنے بعد بھی مالک کا علم نہ ہو سکے اور ظن غالب ہو کہ اب مالک نہیں آئے گا تو اس صورت میں آپ کو اختیار ہے کہ اپنی حفاظت میں رکھیں یا کسی شرعی فقیر کو بطور صدقہ دے دیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.