Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تین انویسٹر اور ایک ورکنگ پارٹنر کی مضاربت کا حکم
Answer (beginning)
ایک طرف سرمایہ ہو اور دوسری طرف محنت ہو اس طرح کار و بار کرنے کو شرعاً عقدِ مضاربت کہتے ہیں اور سوال میں بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق مضاربت کرنا، جائز و درست ہے کیونکہ عقدِ مضاربت میں ایک مضارب اور ایک سے زیادہ رب المال یعنی انویسٹر ز ہو سکتے ہیں، اسی طرح نفع بھی رب المال اور مضارب کے درمیان برابر طے کیا جاسکتا ہے۔ لیکن مضارب پر مطلقاً نقصان کی شرط لگانا باطل ہے کہ مضارب فقط اپنی کوتاہی سے ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے البتہ یہ ایسی شرط ہے جس سے مضاربت فاسد نہیں ہوتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.