Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اکاؤنٹ میں مخصوص رقم رکھنے کی شرط پر کیش بیک کی سہولت کا حکم
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ سودی بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں کم از کم 10 ہزار روپے رکھنے اور پھر اس اکاؤنٹ کے ذریعے بل کی ادائیگی پر کیش بیک کی سہولت حاصل کرنا، جائز نہیں کیوں کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں جور قم جمع کی جاتی ہے اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے اور قرض پر کسی قسم کا مشروط نفع دینا یالینا جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں فرمایا گیا: nomic کل قرض جر منفعة فھو رہا۔“ یعنی قرض کی بنیاد پر جو نفع حاصل کیا جائے وہ سود ہے۔ (کنز العمال، حدیث 15516، جلد6،صفحه 238، بیروت) پوچھی گئی صورت میں قرض پر ایک مشروط نفع دینے کا معاملہ ہے۔ مشروط نفع کی مقدار طے نہ کی جائے تب بھی وہ نفع سود ہی ہوتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.