Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوٰۃ ادا کرنے سے پہلے رقم چوری ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

النہر الفائق میں ہے: "لا يخرج بالعزل عن العهدة بل لابد من التصدق به حتى لوضاعت لم تسقط عنه كذا فى الخانية “ یعنی مال کو بنیت زکوۃ علیحدہ کر دینے سے بری الذمہ نہ ہو گا بلکہ تصدق ضروری ہے حتی کہ اگر بنیت زکوۃ علیحدہ کیا گیا مال ضائع ہو گیا تو زکوۃ ساقط نہیں ہو گی ۔ خانیہ میں بھی یو نہی ہے۔ (النهر الفائق، جلد 1، صفحه 419، مطبوعہ کراچی) بہار شریعت میں ہے: ” مال کو بہ نیت زکوۃ علیحدہ کر دینے سے بری الذمہ نہ ہو گا، جب تک فقیروں کونہ دیدے، یہاں تک کہ اگر وہ جاتا رہا، تو زکوۃ ساقط نہ ہوئی اور اگر مر گیا تو اس میں وراثت جاری ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.