Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض وقت پر واپس نہ کرنے کی وجہ سے نقصان لینے کا حکم
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں قرض دینے والا صرف اپنی قرض کی مد میں دی ہوئی رقم یعنی 15 لاکھ ہی مقروض سے واپس لے سکتا ہے ، اس کے علاوہ کسی طرح کی اضافی رقم یا کوئی بھی چیز لینا نا جائز و حرام ہے۔ نہ ہی بیانہ کی مد میں ، نہ ہی رقم کے علاوہ کوئی چیز مثلاً بائیک وغیرہ اور نہ ہی مقروض کے کاروبار سے کسی قسم کا نفع لے سکتا ہے کہ یہ سب قرض کی بنیاد پر ملنے والا نفع ہے جو کہ حرام اور سود ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.