Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیسی جمع کروانے والے کا انتقال ہوجائے تو رقم واپس کرنے کا حکم

Answer (beginning)

بیان کردہ صورت میں مرحوم دونوں کمیٹیوں کی مد میں 10 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کر چکا تھا اور اس کو ایک کمیٹی کی مد میں 8 لاکھ روپے مل چکے تھے لہذا مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ روپے کی رقم کمیٹی والے پر قرض ہوئی اور عند الشرع قرض کو مطالبہ پر لوٹانا لازم ہوتا ہے۔ بہر حال کمیٹی والے پر یہ ڈھائی لاکھ روپے ورثاء کو دینا لازم ہے ، اب اس کا طریقہ کار یہ ہو سکتا ہے کہ میت کے ورثاء اور کمیٹی والا باہمی رضامندی سے کسی ایک تاریخ کو طے کر لیں جس میں رقم کی واپسی ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.