Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پارٹنر کا چیز مہنگی بیچ کر اضافی نفع خود رکھنا کیسا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ کا ریٹ فکس کیے ہوئے آئٹم پر ملنے والا اضافی نفع خود رکھ لینا جائز نہیں بلکہ جتنا اضافی نفع حاصل ہو گاوہ بھی طے شدہ نفع کی فیصد کے مطابق آدھا آدھا آپ دونوں پارٹنرز کے درمیان تقسیم ہو گا۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ شرکت عقد میں ہر شریک دوسرے کا وکیل و امین ہوتا ہے ،مالِ شرکت میں سے جو بھی شریک کوئی آئٹم فروخت کرے گا وہ فقط اپنی جانب سے فروخت نہیں کر رہا بلکہ اپنے دوسرے پارٹنر کی طرف سے بھی فروخت کر رہا ہے، نفع ہونے کی صورت میں دونوں ہی پارٹنر طے شدہ حصے کے مطابق اس میں شریک ہونگے ، لہذا آپ جو بھی آئٹم فروخت کریں گے ، آپ دونوں کی طرف سے فروخت ہو گا ، اس میں ہونے والے تمام نفع…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.