Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ورکنگ پارٹنر کے لیے زیادہ نفع رکھنے کا حکم

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق پارٹنر شپ کرکے ایمازون پر جائز طریقے سے کاروبار کرنے کے لئے کمپنی بنانا شرعاً جائز ہے ۔ مذکورہ معاہدہ میں موجود تمام باتیں شراکت داری کے اصولوں کے مطابق ہیں کیونکہ شرعی اصولوں کے مطابق عقد شرکت میں ایک ورکنگ پارٹنر ہو سکتا ہے اور ورکنگ پارٹنر اپنے سرمایہ سے زائد نفع بھی لے سکتا ہے جبکہ نقصان میں تمام پارٹنر ز کا حصہ سرمایہ کے مطابق ہوتا ہے، نیز مذکورہ معاہدے میں راس المال تمام شرکاء کی جانب سے ہے، نفع اس انداز میں متعین ہے جو شریعت کو مطلوب ہے اور نقصان کی تقسیم کاری بھی شرعی اصول کے مطابق ہے لہذا اس طرح شرکت کرنا بالکل جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.