Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک کی زمین اور باقی کام دوسرے پر ہوں تو مزارعت کا حکم
Answer (beginning)
دو افراد کا اس انداز میں عقد مزارعت کرنا کہ ایک فرد صرف زمین دے گا اور مزارع ، سارے کام کرے گا اور ان کاموں پر آنے والے اخراجات بھی مزارع کے ذمہ ہوں گے ، یہ عقد شر عادرست ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگرچہ قول ظاہر الروایہ کے مطابق فصل کی کٹائی وغیرہ طے شدہ نفع کے تناسب سے لازم آتے ہیں، لیکن امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی ایک روایت کے مطابق اگر عاقدین باہم طے کر لیں کہ ایک فرد صرف زمین دے گا اور باقی سب کام اور اُن کے اخراجات مزارع برداشت کرے گا، تو یوں عقد کرنا درست ہے۔ اس پر کثیر فقہائے احناف نے بسبب تعامل فتوی دیا ہے اور اسی قول کو اصح قرار دیا گیا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.