Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قسط وقت پر ادا نہ کرنے کی وجہ سے دکان واپس لینا یا قسطوں کے ساتھ کرایہ لینا کیسا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں خریدار سے دکان کو واپس لینا، اس کی ادا شدہ قسطوں میں سے کٹوتی کر کے کچھ رقم دبالینا یا اس سے دکان سے حاصل ہونے والا کرایہ لے لینا اور مزید مہلت دینے کی صورت میں قسطوں کے ساتھ کرایہ وصول کرنا، یہ سب ناجائز و حرام ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جب بائع و مشتری یعنی بیچنے اور خرید نے والے کے درمیان ایجاب و قبول ہو جائے ، تو اس سے بیچ تام ہو جاتی ہے اور مشتری مبیع ( خریدی ہوئی شے ) کا مالک ہو جاتا ہے ، اگر چہ اس نے شمن مکمل ادا نہ کیا ہو ، لہذا مکان یا دکان پر قبضہ کرنے کے بعد کرائے پر دینے سے جو کچھ کرایہ حاصل ہو گا ، وہ سب مشتری کی ملک ہے ، اس کی رضامندی کے بغیر بیع کو ختم کر کے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.