Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رقم کم زیادہ ہو اور نفع نقصان برابر ہو تو ایسی شرکت کا حکم
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں شرکت جائز ہے ، اور کام کرنے والے شریک کو تیس فیصد سرمایہ ہونے کے باوجود کل نفع کا پچاس فیصد دینے میں شر عاحرج نہیں کیوں کہ وہ کام کر رہا ہے لھذاد و سرے شریک کی رضامندی سے اپنے راس المال کے تناسب سے زیادہ نفع مقرر کر سکتا ہے۔ البتہ تیس فیصد سرمایہ لگانے والے شریک پر 50 فیصد نقصان کی شرط لگانا درست نہیں، لیکن اس شرط سے شرکت فاسد نہیں ہو گی، بلکہ شرط خود ہی باطل ہو جائیگی اور نقصان ہونے کی صورت میں دونوں پارٹنر ز پر ان کے سرمایہ کے لحاظ سے نقصان عائد ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.