Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رقم انویسٹ کرنے کے ساتھ کام کرنے کی شرط پر مضاربت کا حکم
Answer (beginning)
جب سرمایہ ایک شخص کی طرف سے ہو اور دوسرے شخص کی طرف سے صرف محنت ہو، کوئی سرمایہ نہ ہو تو شر عا اس طرح معاملہ کرنا " مضاربت " کہلاتا ہے اور عقد مضاربت کرتے وقت جب رب المال (یعنی سرمایہ لگانے والا) بھی Islamic Economics Centre مضارب کے ساتھ اپنے کام کرنے کی شرط لگادے تو اس سے عقد مضاربت فاسد ہو جاتا ہے لہذا پوچھی گئی صورت میں زید و بکر کا اس طرح عقد مضاربت کا معاملہ کرنا کہ سرمایہ صرف بکر کی طرف سے ہو گا اور کام زید و بکر دونوں مل کر کریں گے تو ایسا کرنا، ناجائز ہے اور یہ عقد مضاربت بھی فاسد ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.