Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بغیر وضو طواف کیا اور اب وطن واپس آچکا ہے، تو کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

طواف چاہے وہ کسی بھی قسم کا ہو اس کے لیے طہارت حکمیہ یعنی وضو و غسل سے ہو ناواجب ہو تا ہے، لہذ ا جس شخص نے بے وضو حالت میں عمرے کا طواف کیا، تو اس کا طواف تو ادا ہو گیا، مگر طواف میں واجب طہارت کو ترک کرنے کی وجہ سے وہ گنہگار ہوا، اور اب جبکہ باوضو حالت میں اس طواف کا اعادہ کیے بغیر اپنے وطن واپس آگیا ، تو اس پر ایک دم لازم ہو گیا، البتہ اگر وہ دوبارہ عمرے کے لیے جارہا ہو ، تو وہاں جاکر سابقہ بے وضو کی حالت میں کیے گئے عمرے کے طواف کا وضو کی حالت میں اعادہ کر سکتا ہے ، اعادہ کر لینے کی وجہ سے دم ساقط (ختم) ہو جائے گا، لیکن بہر حال اس پر تو بہ لازم ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.