Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازِ عید کے بعد خطبے سے پہلے قربانی کر دی، تو ہوجائے گی؟
Answer (beginning)
شہر میں قربانی درست ہونے کے لیے شرط ہے کہ نماز عید پڑھی جاچکی ہو کہ اصل اعتبار نماز عید ہو جانے کا ہے، لہذا نماز ہو جانے کے بعد خطبے سے پہلے ہی اگر کسی شخص نے قربانی کر دی، تو اُس کی قربانی تو ادا ہو جائے گی، لیکن وہ شخص اساءت کا مر تکب ہو گا۔ شہر میں قربانی درست واقع ہونے کے لیے نماز عید ہو جانے کا اعتبار ہے۔ جیسا کہ بدائع الصنائع، نهالية شرح الهداية وغیرہ کتب فقہیہ میں مذکور ہے: " و النظم للاول“ ولو ضحى قبل فراغ الإمام من الخطبة أو قبل الخطبة جاز؛ لأن النبي عليه الصلاة والسلام رتب الذبح على الصلاة لا على الخطبة فيما روبينا من الأحاديث فدل أن العبرة للصلاة لا للخطبة " یعنی اگر امام کے خطبے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.