Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حلی(حدودِ حرم سے باہر میقات کے اندر رہنےوالا)شخص حجِ تمتع یا قران کر سکتا ہے ؟
Answer (beginning)
حل میں رہنے والا شخص حج تمتع و قران نہیں کر سکتا، بلکہ اس کے لیے فقط حج افراد ہی جائز ہے کہ میقات میں رہنے والا شخص مکی کے حکم میں ہے کہ اس کے لیے کسی کام کی وجہ سے مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہو نا، جائز ہے ، مکی اور جو مکی کے حکم میں ہو ، اس کے لیے حج تمتع و قران جائز نہیں ہے کہ حج کے مہینے ( یعنی شوال، ذوالقعدہ، اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن) حج کے ساتھ ہی خاص ہیں، لیکن ان میں آفاقی کی آسانی کے پیش نظر عمرہ جائز ہوا تا کہ اسے عمرہ کے لیے دوبارہ سفر نہ کرنا پڑے کہ اس میں اس کے لیے تنگی ہے ، جبکہ ملکی اور جو اس کے حکم میں ہے ، اس کے لیے حج کے علاوہ دیگر مہینوں میں دوبارہ سفر کرنے میں کوئی مشکل…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.