Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ٹیکسی یا رکشے والوں کا کرایہ طے نہ کرنا کیسا ؟

Answer (beginning)

شرعی اصولوں کے مطابق عقد اجارہ میں اُجرت معلوم ہونا شرط ہے۔ اجرت میں جہالت ہونے کی صورت میں کیا گیا اجارہ ، فاسد ہے۔ اور اجارہ فاسدہ کا حکم یہ ہے کہ منفعت حاصل ہونے کی صورت میں اُجرت مثل دینا واجب ہے۔ پوچھی گئی صورت میں ٹیکسی یا رکشہ والوں کا اس طرح کرایہ طے کرنا کہ ”جو مناسب ہو دے دینا یا جو مرضی ہو ، خوشی سے دے دینا جائز نہیں، بلکہ اُجرت مجہول ہونے کی وجہ سے یہ اجارہ فاسد ہے جس میں اجرت مثل دینا واجب ہے۔ یعنی وہاں کے لوگ اتنے سفر کا جتنا معاوضہ عام طور پر دیتے ہیں وہ دینا لازم ہے۔ یہ اجرت اگرچہ حلال ہے لیکن اس طرح عقد کرنا، گناہ ہے جس سے توبہ کرنا اور آئندہ اس سے بچنا لازم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.