Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض واپس کرنے کے گواہ نہ ہوں تو اختلاف کس طرح ختم کریں ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ پر لازم ہے کہ آپ رقم کی ادائیگی پر گواہ پیش کریں، اگر آپ نے گواہ پیش کر دیئے تو آپ قرض کی ادائیگی سے بری ہوں گے۔ گواہ نہ ہونے کی صورت میں زید سے یہ قسم لی جائے گی کہ اس نے رقم وصول نہیں کی، اگر زید قسم کھا لیتا ہے تو آپ پر لازم ہو گا کہ زید کو قرض کی ادائیگی کریں۔ اور اگر قسم کھانے سے انکار کرتا ہے تو اب آپ پر ادا ئیگی کر ناشر عا لازم نہ ہو گا۔ Econ درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے: ” إذا ادعى أحد كذا در هما من جهة القرض ودفع المدعى عليه الدعوى قائلا: إنني أديت لك ذلك فيسأل حينئذ المدعي هل إن المدعى عليه أدى لك المبلغ المذكور.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.