Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پہننے کے لیے کپڑے کرائے پر لینا کیسا ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ کا تیار شدہ (Readymade) لیڈیز سوٹ شادی میں پہننے کے لئے طے شدہ اُجرت کے عوض کرائے پر لینا جائز ہے۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے : ” اذا استاجرت المراة درعا لتلبسه اياما معلومة ببدل معلوم فهو جائز“ یعنی: اگر کسی عورت نے زنانہ قمیض معلوم ایام تک پہننے کی غرض سے معلوم معاوضے کے بدلے کرائے پر لی تو یہ جائز ہے۔ (فتاوی عالمگیری جلد 4، صفحه 465، مطبوعہ کوئٹہ) اسی طرح بحر الرائق میں ہے: ” صح استئجار الدابة والثوب لان المنفعة مقصودة معهودة معلومة “ یعنی : جانور یا کپڑے کرائے پر لینا درست ہے کیونکہ منفعت مقصود، معہود اور معلوم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.