Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سودی بینک میں ملازمت کرنے کا حکم
Answer (beginning)
جاب چاہے سودی بینک میں ہو یا کسی اور سودی ادارے میں، اس کا اصول یہ ہے کہ جس جاب میں گناہ کے کام کرنے پڑیں یا گناہ کے کاموں میں براہ راست معاونت کرنی پڑے، ایسی جاب کرنا، جائز نہیں مثلا کسی شخص کا کام سودی امور کا حساب کتاب رکھنا یا گواہ بنا ہو وغیر ذالک تو ان افراد کا یہ کام جائز نہیں ہو گا۔ اس کے بر خلاف جس جاب میں گناہ کے کاموں میں براہ راست معاونت نہ ہو، ایسی جاب کرنا، جائز ہے مثلاً سیکیورٹی گارڈ (Security Guard)، الیکٹریشن(Electrician)، ڈرائیور (Driver) وغیرہ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.