Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گارمنٹس مارکیٹ میں کمیشن کی ایک ناجائز صورت

Answer (beginning)

صورتِ مسئولہ میں جو کمیشن کے نام پر دکان پر کام کرنے والے کو دیتے ہیں وہ کمیشن نہیں، بلکہ رشوت ہے اور رشوت لینا دینا نا جائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب آپ نے سامان دکاندار کو بیچ دیا، تو وہ اب آپ کا نہ رہا، بلکہ دکاندار کا ہو گیا، لہذا اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں اپنا مال بیچنے پر کمیشن دے رہا ہوں ، بلکہ آپ اپنا کام نکلوانے کے لیے مال دے رہے ہیں کہ سیلز مین کو کچھ مال دوں تاکہ یہ ترجیحی طور پر میری پروڈکٹ سیل کریں اور پھر مزید آرڈر اس دکان سے ملے ، اس طرح اپنی منشاء پوری کرنے کے لیے جو مال دیا جاتا ہے، وہ رشوت کہلاتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.