Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسٹمر کو پروڈکٹ کا ریٹ زیادہ بتانے کی شرعی حیثیت

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر آپ نے صرف اتنا ہی کہا کہ چین میں اس کا بھاؤ 10 روپے ہے تو ایسا کہنا، جائز ہے کہ اس میں کوئی جھوٹ نہیں البتہ بیع مرابحہ میں جس قیمت پر چیز خریدی، اس کو چھپانے کی اجازت نہیں ہوتی لہذاوہاں اصل قیمت ہی بتانا ہو گی۔ Islamic Economics Centre نوٹ : عموما تاجر حضرات کسٹمر کو راغب کرنے کے لئے یوں کہتے ہیں کہ ” یہ چیز مجھے اتنے میں پڑی ہے “ یا ”میری قیمت خرید اتنی ہے اور پھر قیمت خرید بتانے میں جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں تو ایسا کرنا، جائز نہیں اور اس سے کاروبار کی برکت بھی اٹھ جاتی ہے۔ قرآن کریم میں ہے : 66 وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الرُّورِ “ ترجمہ کنز الایمان : اور بچو جھوٹی بات سے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.