Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وضوکے درمیان وضو توڑنے والی چیز پائے جائے تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں دانتوں سے نکلنے والا خون اگر تھوک پر غالب تھا یعنی وہ تھوک سرخ تھا، تو اس صورت میں وہ دھلے ہوئے اعضاء بے دھلے ہو گئے ، اُن کی طہارت باطل ہو گئی ، لہذا اب نئے سرے سے اعضائے وضو کو دھونا ہو گا، کیونکہ وضو کے دوران اگر وضو توڑنے والی کوئی چیز پائی جائے، تو پہلے دھلے ہوئے اعضاء بے دھلے ہو جاتے ہیں اور اُن اعضاء کی طہارت باطل ہو جاتی ہے۔ چنانچہ در مختار میں ہے: " وشرط صحتها صدور الطهر من اهله في محله مع فقد مانعه “ یعنی طہارت درست ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ طہارت اُس کے اہل سے محل میں واقع ہو اور کوئی مانع بھی نہ پایا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.