Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیٹی کو حج کروانے کی منت مانی تو اس کے علاوہ کو بھیج سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص کی منت شرعی منت ہے اور اس شخص پر حج کروانا بھی لازم ہے، کیونکہ منتِ شرعی کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ اس کی جنس سے کوئی عمل واجب ہو اور کسی کو حج کروانے کی جنس سے حج بدل ( یعنی خود حج پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں کسی کو حج پر بھیجنا ) واجب ہے، لہذا کسی کو حج کروانے کی منت بھی منت شرعی ہی قرار پائے گی۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس بیٹی کو ہی حج کروانا ضروری ہے یا کسی اور کو بھی بھیج سکتے 1 ہیں ، تو اس کے متعلق حکم شرعی یہ ہے کہ منت پوری ہو جانے کے بعد ہندہ کو ہی حج کروانا ضروری نہیں، بلکہ اس کے علاوہ اپنے کسی بیٹے یا دیگر کسی مرد کو بھی حج کروا کر اس منت کو پورا کیا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.