Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روز مرہ کی عام پڑھی جانے والی دعاؤں میں ہاتھ اٹھائیں گے؟
Answer (beginning)
(1) یہ دعائیں حقیقت کے اعتبار سے تو اذکار ہیں ، لیکن ان میں حمد کا معنی پایا جاتا ہے اور علمانے اس بات کی صراحت کی ہے کہ ہر حمد دعا ہے اور یہ بات احادیث سے بھی ثابت ہے اس لیے ان کو دعا کہا جاتا ہے۔ (2) جہاں تک رہا ان دعاؤں میں ہاتھوں کو بلند کرنا تو ہاتھ بلند کرنا ممنوع تو نہیں ہے ، لیکن سنت مبارکہ سے ثابت نہیں ہے ، البتہ ان اذکار و ادعیہ میں ہاتھوں کو اٹھانا منع بھی نہیں کہ احادیث میں دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے کو مطلقا بیان کیا گیا ہے ، لہذا فی نفسہ ہر دعا میں ہاتھ اٹھانے کا جواز موجود ہے ، ہاں موقع و محل کا خیال رکھنا مناسب ہے کہ جہاں موقع مناسب ہو ہاتھ بلند کیے جاسکتے ہیں اور جہاں موقع مناسب…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.