Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا سعی کے ساتوں پھیرے لگاتار کرنا ضروری ہے؟

Answer (beginning)

فاصلہ کرنا شرعاً مکروہ و نا پسندیدہ ہے۔ سعی کے پھیرے پے در پے کرنا سنت ہے، جیسا کہ ”مناسك الملا علی القاری“ میں ہے: ” (فصل: في سننه) ای سنن السعی، و هي خمس ---۔۔۔ (والموالاة بين اشواط ) یعنی سعی کی سنتوں کا بیان اور وہ پانچ سنتیں ہیں :۔۔۔۔ انہی میں سے ایک سنت سعی کے پھیرے لگاتار (مناسک الملا علی قاری، ص254، مطبوعه مكه مكرمه، ملتقطاً) کرنا بھی ہے۔ سعی کے پھیروں کے مابین بغیر عذر کے فاصلہ کرنا مکروہ ہے، جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے: ” في اللباب: ولا مفسد للطواف وعد من مكروهاته تفريقه أي الفصل بين أشواطه تفريقا كثيرا وكذا قال في السعي بل ذكر في منسكه الكبير لو فرق السعي تفريقا كثيرا كأن سعى 1 كل…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.