Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ڈسکاؤنٹ کارڈ خریدنے کا حکم
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں کمپنی سے ڈسکاؤنٹ کارڈ خرید ناشر عاً جائز نہیں۔ اگر لے لیا، تو لازم ہے کہ انہیں کارڈ واپس کر کے اپنی رقم واپس لے اور اس گناہ سے توبہ کرے۔ اس کے ناجائز ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ : اولاً: مذکورہ ڈسکاؤنٹ کارڈ خرید ناشر عابیع نہیں کہ بیع میں مال کا مال سے تبادلہ ہو ناضروری ہے اور یہ کارڈ شر عامال نہیں کہ کمپنی کا اس پر مخصوص چھپائی کر دینے سے یہ کارڈ کسی اور کام کا نہیں رہتا ، اس لیے اس کی خرید و فروخت ناجائز و باطل ہے۔ ثانیا: اگر اسے مال تسلیم کر بھی لیا جائے، تو بھی یہاں کارڈ خرید نامقصود نہیں ہو تا، بلکہ مقصود ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ کارڈ اس کے لیے صرف دستاویز کا کام کرتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.