Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوٰۃ کی ادائیگی میں کس جگہ کی قیمت کا اعتبار ہے ؟نیز صدقہ فطر اور زکوٰۃ میں جگہ کے اعتبار میں فرق ؟
Answer (beginning)
زکوۃ کی شرائط پائی جانے کی صورت میں زکوۃ کی ادائیگی کے حوالے سے شرعی اصول یہ ہے کہ جس جگہ پر مال موجود ہو ، اسی جگہ کی قیمت کا اعتبار کرتے ہوئے زکوۃ ادا کی جائے گی ، لہذ از ید کا مال جب بیرون ملک ہے ، تو وہ اسی جگہ کی قیمت کے اعتبار سے زکوۃ ادا کرے گا، البتہ اگر چاہے تو اتنی مالیت کی پاکستانی کرنسی بھی زکوۃ میں ادا کر سکتا ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: " ويقومها المالك في البلد الذي فيه المال حتى لو بعث عبد اللتجارة إلى بلد آخر فحال الحول تعتبر قيمته في ذلك البلد “ترجمہ : مالِ تجارت کا مالک، مال تجارت کی قیمت اس شہر کے اعتبار سے لگائے گا، جس شہر میں مال موجود ہو، یہاں تک کہ اس نے غلام کو تجارت کے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.