Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شرعی فقیر نے زکوٰۃ میں ملی ہوئی چیز بیچ دی، تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟
Answer (beginning)
زکوۃ کی درست ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ خالصہ اللہ عزوجل کی رضا کے لیے اپنا ہر قسم کا نفع ختم کر کے کسی غیر ہاشمی مستحق زکوۃ صحیح العقیدہ مسلمان کو زکوۃ کی نیت سے رقم یا سامان وغیرہ کامالک بنادیا جائے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کسی غیر ہاشمی مستحق زکوۃ کو زکوۃ کی نیت سے راشن کا مالک بنا دیتے ہیں، تو آپ کی زکوۃ ادا ہو جائے گی۔ ہر شخص اپنی ملکیت والے مال میں کسی بھی قسم کا جائز تصرف کر سکتا ہے اور شرعی دائرہ کار میں رہتے ہوئے خرید و فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں مستحق زکوۃ کا زکوۃ کی مد میں ملا ہوا راشن بیچنا شرعاً جائز ہے، جس سے زکوۃ کی ادائیگی میں کوئی فرق نہیں پڑے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.