Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ہیرے جواہرات پر زکوٰۃ کا حکم
Answer (beginning)
ایسا نہیں ہے کہ ہیروں پر مطلقا ہی زکاۃ واجب نہ ہو، بلکہ درست یہ ہے کہ جو ہیرے جواہرات بیچنے کی نیت کے علاوہ کسی اور نیت سے خریدے گئے ہوں، تو ان پر زکاۃ لازم نہیں ہو گی اور اگر یہ بیچنے کی نیت سے خریدے گئے ہوں، تو زکاۃ کی بقیہ شرائط پائے جانے کی صورت میں ان پر بھی زکاۃ لازم ہو گی۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ زکاۃ لازم ہونے کے لیے بنیادی طور پر مال کا نامی ہونا ضروری ہے، خواہ وہ حقیقتا بڑھے یا حکما کہ زکاۃ کا معنی ہی نمو ( یعنی بڑھوتری) ہے اور زکاۃ کے معاملہ میں مالِ نامی دو طرح کے اموال ہیں: (1) شمن خواہ وہ خلقی ہو جیسے سونا، چاندی یا اصطلاحی جیسے مختلف ملکوں کی کرنسی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.