Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا صدقہ فطر کی جگہ مستحق افراد کو کھانا کھلانا کافی ہے؟

Answer (beginning)

صدقہ فطر کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز سے صدقہ فطر ادا کیا جائے مستحق افراد کو اس کا مالک بنایا جائے، بغیر مالک بنائے صدقہ فطر ادا نہیں ہو گا ، اور کسی کو کھانا کھلانا اباحت کے قبیل سے ہے کہ اس میں عموماً کھانا کھانے والے کو مالک نہیں بنایا جاتا، لہذا صورت مسئولہ میں صدقہ فطر کی ادائیگی کے لیے صدقہ فطر کے مستحق افراد کو دستر خوان پر بٹھا کر کھانا کھلا دینے یا افطاری کروا دینے سے صدقہ فطر ادا نہیں ہو گا، البتہ مستحقین فطرانہ کو کھانے کا مالک بنا دینا بایں طور کہ چاہیں تو کھا لیں یا چاہیں تو ساتھ لے جائیں تو اس سے صدقہ فطر ادا ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.