Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مال تجارت کی قیمت کم ہو گئی تو زکوۃ کس قیمت سے ادا کی جائے ؟

Answer (beginning)

بیچنے کی نیت سے خریدی جانے والی چیز کو مالِ تجارت کہتے ہیں، اور شرعی مسئلہ یہ ہے کہ سال گزرنے پر مالِ تجارت کی مارکیٹ میں جو قیمت ہو گی اسی کا اعتبار کرتے ہوئے زکوۃ ادا کی جائے گی۔ پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی مذکورہ پلاٹ کی مارکیٹ ویلیو سال کے اختتام پر 1کروڑ سے کم ہو کر 50 لاکھ روپے ہو چکی ہے تو اسی مالیت پر زکوۃ ادا کر نا فرض ہو گا۔ جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے: ” تعتبر القیمۃ عند حولان الحول “ یعنی : سال کے اختتام پر مال کی جو قیمت ہے اس قیمت کا اعتبار ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.